zeba writes
Digital Creator
محبت پیدا کرنے والی دس چیزیں
1. کثرت سے سلام کہنا
2. نرم بوبصورت گفتگو کرنا
3. چاہنے والوں (دوستوں) کی کی ملاقات
4. ہدیہ دینا
5. مریض کی عیادت کرنا
6. سچ بولنا
7. وفاداری کرنا
8. وعدہ پورا کرنا
9. راز کی حفاظت کرنا
10. لوگوں کی عزت کرنا
ابن حمدون رحمه اللہ.
التذکرة الحمدونية: ٣/٢٢٥
27/04/2026
حضرتِ جامی ؒ کی لکھی ہوئی وہ نعت کہ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں داخلے پر پابندی لگوا دی ۔!
براہ کرم یہ ضرور پڑھئے اور سوچئے کہ یہ نعتیہ کلام پڑھنے والے کو بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیسا مقام ملتا ہو گا!
حضرت ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﺎمی رحمتہ الله علیہ ایک ﻧﻌﺖ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺣﺞ ﮐﮯ لئے ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﻭﺿﮧ ﺍﻗﺪﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﻌﺖ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ۔
چنانچہ ﺣﺞ ﺑﯿﺖ الله ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ لئے ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ نبی ﺍﮐﺮﻡ ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ کی ﺯﯾﺎﺭﺕ نصیب ﮨﻮئی ۔ ﺁﭖ ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ وآلہ وسلم ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﺟﺎمی رحمة الله علیہ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ نہ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﮟ .
حکم سُن کر ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﻧﮯ اعلان کروا کر مولانا ﺟﺎمی رحمة الله علیہ کی مدینہ میں داخلے پر پابندی لگا ﺩﯼ ۔
مولانا ﺟﺎمی رحمة الله علیہ بڑے پائے کے ﻋﺎﺷﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﮭﮯ . ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻋﺸﻖ نبی اکرم ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻏﺎﻟﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭼُﮭﭗ ﮐﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ کی ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ، کچھ ﺳﯿﺮﺕ ﻧﮕﺎﺭ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﺎﻓﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ بھی ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ۔ اور کچھ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﺭﯾﻮﮌ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ کی ﮐﮭﺎﻝ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ نبی پاک ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ نہ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺎ ۔
جب ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﮐﻮ نبی پاک ﺻلی الله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ کی ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ کہ ﺟﺎمی رحمة الله علیہ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﺿﮧ ﭘﺮ بالکل نہ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﺩﻭﮌﺍﺋﮯ ﺟﻮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﺎمی رحمة اللّه علیہ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﺎمی رحمة الله ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ قید ﮐﺮ ﺩﯾﺎ.
چنانچہ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﮐﻮ نبی ﺍﮐﺮﻡ ﺻلی الله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ کی ﺯﯾﺎﺭﺕ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮئی ۔ﺁﭖ صلی الله ﻋﻠﯿﮧوآلہ وسلم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ …
جامی کوئی ﻣﺠﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ہے ، ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﺱ لئے ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭک رہے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻦ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ انور ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﺍﻧﻮﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍھ لئے ﺗﻮ مجھے ﻗﺒﺮ ﺍﻧﻮﺭ ﺳﮯ باہر ﻧﮑﻞ ﮐﺮ جامی سے ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔ لہذا اسے ہر حال میں روکو ۔
پھر ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﻧﮯ حضرت جامی رحمة ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﻗﯿﺪ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ
ﻭ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ۔ پھر امیر مکہ نے مولانا جامی رحمة الله علیہ سے پوچھا آخر وہ کون سی نعت ہے جو آپ روضہ رسول صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم پر سنانا چاہتے ھيں؟
مولانا جامی رحمة الله علیہ نے روتے ہوئے یہ چند اشعار پڑھے؛
تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ۔۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ
(یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے،
گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آوارہ ہو گیا ہے)
چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائے نقشِ نعلینت ، کنم جاں ۔۔۔ یا رسول اللہ
(یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میری جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں ، آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں)
زِ کردہ خویش حیرانم ، سیہ شُد روزِ عصیانم
پشیمانم، پشیمانم ، پشیماں ۔۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ
(میں اپنے کئے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں ، پشیمانی اور شرمند گی سے پانی پانی ہو رہا ہوں ، یا رسول اللہ)
چوں بازوئے شفاعت را ، کُشائی بر گنہ گاراں
مکُن محروم جامی را ، درا آں ، یا رسول اللہ
( روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لئے کھولیں گے ، یا رسول اللہ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھئے گا)
(مولانا عبدالرحمن جامی)
24/04/2026
24/04/2026
يمكننا الفوز في الحياة بتجنب شيئين:
“المقارنة مع الآخرين” و”التوقع من الآخرين”.
"ہم زندگی میں اگر ہم ان دو چیزوں سے بچیں تو ضرور کامیاب ہو سکتے ہیں:
'دوسروں سے موازنہ کرنا' اور 'دوسروں سے توقع رکھنا'۔".
24/04/2026
رزق کی سب سے کم درجے والی شکل مال ہے،
اور اس کی بلند ترین شکل صحت اور عافیت ہے۔
نیک اولاد بہترین رزق میں سے ہے،
اور نیک شریکِ حیات کامل رزق کی نشانی ہے۔
حدیث میں آتا ہے:
“اللہ سے عافیت مانگو، کیونکہ کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔”
اور دعا:
“اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما،
اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔”
✨💖 *آج چوتھا روزہ گزر گیا الحمداللہ*
*توجہ دیجئے وقت ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے.... ہم میں سے اکثر کی روٹین ہی سیٹ ہوئی اب تک.... جو ہو گیا سو ہو گیا ہے کہ جو رہ گیا ہے اسکی قدر کیجئے*
بہنوں.... ہم سب رمضان میں خوب خوب عبادت کرنا چاہتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے ہمارے آس پاس سب نیکیوں میں آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں *مگر ہم کسی بیماری ڈپریشن پریشانی یا اپنی غفلت کے باعث صرف فرض فرض ہی کر پاتے ہیں آپ پریشان نہ ہوں*
🤲 *سب سے پہلے اللہ سے دعا کریں آنسو بہائیں اپنی غلطی کا اعتراف کریں اللہ آپ کی مدد ضرور کرے گا ۔*
*وقت کی قلت ہے تو چھوٹے ٹارگٹ رکھیں تراویح کے ساتھ دو نفل پڑھ لیں ہر نماز کے بعد تسبیحات شامل کر لیں چلتے پھرتے دعائیں مانگیں تسبیحات پڑھیں ایک ایک لمحے کی حفاظت کریں*
🍀❤️🍀❤️🍀
ایک عربی پوسٹ کا ترجمہ
"ایک حوصلہ افزا مضمون"
ہم کیوں قبر کی نعمتوں کے بارے میں بات نہیں کرتے، ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ سب سے بہترین دن ہوگا جب ہم اپنے رب سے ملیں گے۔ ہمیں یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ جب ہم اس دنیا سے کوچ کریں گے تو ہم ارحم الراحمین کے دونوں ہاتھ میں ہوں گے، وہ رحمان جو ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جانور کو دیکھا جو اپنا پاؤں اپنے بچے پر رکھنے سے بچا رہی تھی، تو آپ نے صحابہ سے فرمایا " بے شک ہمارا رب ہم پر اس ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے"
کیوں ہمیشہ عذاب قبر کی باتیں ہو رہی ہیں، کیوں موت سے ہمیں نفرت دلائی جا رہی ہے اور اس سے ڈرایا جا رہا ہے؟ یہاں تک کہ ہمیں پختہ یقین ہو گیا کہ ہمارا رب ہمیں مرتے ہی ایسا عذاب دے گا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ہم کیوں اس بات پر مصر ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صرف عذاب ہی دےگا، ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہمارا رب ہم پر رحم کرے گا۔
ہم یہ بات کیوں نہیں کہتے کہ جب قبر میں مومن صالح سے منکر نکیر کے سوال و جواب ہوں گے تو ہمارا رب کہے گا " میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لئے جنت کا بچھؤنا بچھاؤ، اس کو جنت کے کپڑے پہناؤ اور جنت کی طرف سے اس کے لئے دروازہ کھول دو اور اس کو عزت کے ساتھ رکھو۔ پھر وہ اپنا مقام جنت میں دیکھے گا تو اللہ سے گڑ گڑا کر دعا کرے گا: پرور دگار قیامت برپا کر تاکہ میں اطمینان کے ساتھ جنت چلا جاؤں۔(احمد،ابوداوود)
ہم یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ ہمارا عمل صالح ہم بسے الگ نہ ہوگا اور قبر میں ہمارا مونس اور غمخوار ہوگا۔
جب کوئی نیک آدمی وفات پا جاتا ہے تو اس کے تمام رشتہ دار جو دنیا سے چلے گئے ہوں گے، ان کی طرف دوڑیں گے اور سلام کریں گے۔ اس ملاقات کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " یہ ملاقات اس سے کہیں زیادہ خوشی کی ہوگی جب تم دنیا میں اپنے کسی عزیز سے طویل جدائی کے بعد ملتے ہو۔ اور وہ اس سے دنیا کے لوگوں کے بارے میں پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک کہے گا اس کو آرام کرنے دو، یہ دنیا کے غموں سے آیا ہے۔(صحیح الترغیب لالبانی)
موت دنیا کے غموں اور تکلیفوں سے راحت کا ذریعہ ہے۔ صالحین کی موت درحقیقت ان کے لئے راحت ہے۔ اس لئے ہمیں دعاء سکھائی گئی ہے ۔۔ اللھم اجعل الموت راحة لنا من كل الشر..اے اللہ موت کو ہمارے لئے تمام شروں سے راحت کا ذریعہ بنا دے۔
ہم لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ موت زندگی کا دوام ہے اور یہ حقیقی زندگی اور ہمیشہ کی نعمتوں کا دروازہ ہے۔
ہم یہ حقیقت کیوں چھپاتے ہیں کہ روح جسم میں قیدی ہے اور وہ موت کے ذریعے اس جیل سے آزاد ہو جاتی ہے اور عالم برزخ کی خوبصورت زندگی میں جہاں مکان و زمان کی کوئی قید نہیں ہے،
ہم کیوں موت کو رشتہ داروں سے جدائی، غم اور اندوہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، کیوں نہ ہم یہ سوچتے کہ یہ اپنے آبا و اجداد، احباب اور نیک لوگوں سے ملاقات کا ذریعہ ہے۔
قبر سانپ کامنہ نہیں ہے کہ آدمی اس میں جائے گا اور سانپ اس کو چباتا رہے گا بلکہ وہ تو حسیناؤں کا عروس ہے جو ہمارے انتظار میں ہے۔
اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنے اوپر خوف طاری مت کرو ۔
ہم مسلمان ہیں، کافر نہیں ہیں اس لئے ہم اللہ کی رحمت سے دور نہیں پھینک دئے گئے
اللہ نے ہمیں عذاب کی خاطر پیدا نہیں کیا ہے۔ اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کی رضا کے کام کون سے ہیں اور ناراضگی کے کون سے، اور ہم دنیا میں آزاد ہیں جو چاہیں کریں۔
"اللھم اجعل خیر اعمالنا خواتیمھا و خیر اعمارنا اواخرھا و خیر ایامنا یوم ان نلقاك
اے اللہ ہمارے اعمال کا خاتمہ بالخیر کر ، ہماری آخری عمر کو بہترین بنا دے اور سب سے بہترین دن وہ جس دن آپ سے ملاقات ہوگی۔ آمین......
علامہ اقبال نے مومن کی کیفیت بوقت وفات بہترین انداز میں بیان کی ہے۔
نشان مردمومن باتوگوئم
چوں مرگ آیدتبسم برلب اوست۔
(مرد مومن کی تونشانی یہی ہے کہ جب موت آتی ہے تو مسرت کے ساتھ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے).
کیا تمہیں لگتا ہے کہ کچن تمہارا وقت چرا لیتا ہے اور برتنوں کا پہاڑ کبھی ختم ہی نہیں ہوتا؟ 🍽️
تو یہ چند باتیں اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے یاد رکھو:
*🌿اجر کی نیت کرو:*
ہر وہ لقمہ جو تم کسی روزہ دار کو پیش کرتی ہو، اس کے صیام کا اجر تمہارے نامۂ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے۔
تم صرف کھانا نہیں بنا رہیں، تم افطار کی خوشی تیار کر رہی ہو۔
*🌿کچن تمہاری عبادت گاہ ہے:*
برتن دھوتے، سبزی کاٹتے اور کھانا پکاتے ہوئے ذکر کرو، تسبیح پڑھو، قرآن سنو۔
*یوں روزمرہ کا کام ایک خاموش عبادت بن جائے گا۔ 🩷✨*
یاد رکھو، اللہ نیتوں کو دیکھتا ہے—
اور تمہاری تھکن بھی اس کے ہاں ضائع نہیں جاتی۔ 🥹🫀💯
*اب تو میرا دل کرتا ہے کہ میں ساری کوکنگ سیکھو اور خود کرو سب اپنے گھر والوں کو سحری و افطاری کرواؤ۔۔ 🌿ڈبل ثواب🌿۔۔😁🙃🙃🤗🫀🫠🫠*
*ان شاءاللہ ان شاءاللہ*.
حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے شاہکار مکتوبات میں لکھا ہے:
’’جس کا رمضان منتشر اور بے ترتیب گزرے گا، اس کا پورا سال انتشار و بے ترتیبی کا شکار رہے گا اور جس کا رمضان مجتمع اور قیمتی گزرے گا اس کا پورا سال ایسا ہی ہوگا۔‘‘.
22/02/2026
واضح رہے کہ نفلی اعتکاف کے لیے کوئی خاص وقت اور مقدار کی شرط نہیں ہے، نفلی اعتکاف کچھ لمحوں کا بھی ہوسکتا ہے،جب بھی اور جتنے وقت کے لیے بھی آدمی مسجد میں داخل ہو نفلی اعتکاف کی نیت کرلے ، اس کے بعد جتنا وقت مسجد میں گزرے گا آدمی کو نفلی اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔
نیز نفلی اعتکاف مسجد سے نکلنے کی صورت میں فاسد نہیں ہوتا ، بلکہ مسجدِ شرعی کی حدود سے نکلتے ہی نفلی اعتکاف پورا ہوکر ختم ہوجاتا ہے، پھر دوبارہ مسجد میں آکر از سر نو نفل اعتکاف کی نیت کرکے دوبارہ اعتکاف کیا جاسکتا ہے، نیز اگر نفلی اعتکاف مخصوص وقت کی نیت سے کیا ہو، مثلًا: رمضان کے آخری عشرے میں تین دن کا اعتکاف، تو اس مدت کے بعد مسجد سے نکلنا جائز ہے، اس سے اعتکاف ختم ہوجائے گا۔
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144209201090
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Sahiwal
57000