Faraz Shah
syedfarazhussain
یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے،
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے.
یہ جناب شیخ کا فلسفہ جو سمجھ میں میری نہ آ سکا،
جو وہاں پیؤ تو حلال ہے جو یہاں پیؤ تو حرام ہے.
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو،
یہاں کم نظر کا گزر نہیں یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے.
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے،
مگر اب اس میں کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے.
تجھے اپنے حُسن کا واسطہ میرے شوقِ دید پہ رحم کھا،
ذرا مسکرا کر نقاب اُٹھا کہ نظر کو شوقِ سلام ہے.
نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا،
کوئی بات کر درِ یار کی درِ یار ہی سے تو کام ہے.
نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ،
تیری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے.
یہ درست کہ عیب ہے میکشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے،
مگر اب سوال یہ آپڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے.
جو اٹھی تو صبحِ دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی،
تیری چشمِ مست میں ساقیا میری زندگی کا نظام ہے.
میرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تیری بارگاہ میں ساقیا،
کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا تیرا کام ہے.
ابھی اس جہان میں اے جگر کوئی انقلاب اٹھے گا پھر،
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے..!
✍️ جگر مرادآبادی
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
مجھ کو خوش رہنے کے آداب کہاں آتے ہیں
میں تو یک مُشت اُسے سونپ دُوں سب کچھ، لیکن
ایک مُٹّھی میں ، مِرے خواب کہاں آتے ہیں
مُدّتوں بعد اُسے دیکھ کے، دِل بھر آیا
ورنہ ،صحراؤں میں سیلاب کہاں آتے ہیں
میری بے درد نِگاہوں میں، اگر بُھولے سے
نیند آئی بھی تو ، اب خواب کہاں آتے ہیں
تنہا رہتا ہُوں میں دِن بھر ،بَھری دُنیا میں قتؔیل
دِن بُرے ہوں، تو پھر احباب کہاں آتے ہیں….!!
قتیل شفائی
```پیاس لگی تھی غضب کی ...
مگر پانی میں زہر تھا ...
پیتے تو مر جاتے اور نہ پیتے تو بھی مر جاتے
بس یہی دو مسئلے، زندگی بھر نہ حل ہوئے !!!
نہ نیند پوری ہوئی، نہ خواب مکمل ہوئے !!!
وقت نے کہا ..... کاش تھوڑا سا صبر ہوتا !!!
صبر نے کہا .... کاش تھوڑا سا وقت ہوتا !!!
صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے کمانے کے لئے صاحب .....
آرام کمانے نکلتا ہوں آرام چھوڑ کر ..
"ہنر" سڑکوں پر تماشا کرتا ہے اور "قسمت" محلات میں راج کرتی ہے !!
عجیب سوداگر ہے یہ وقت بھی !!!!
جوانی کا لالچ دے کے بچپن لے گیا ....
اب امیری کا لالچ دے کے جوانی لے جائیگا ......
لوٹ آتا ہوں واپس گھر کی طرف ... ہر روز تھکا ہارا،
آج تک سمجھ نہیں آیا کہ جینے کے لئے کام کرتا ہوں یا کام کرنے کے لئے جیتا ہوں۔
"تھک گیا ہوں تیری نوکری سے اے زندگی
مناسب ہوگا میرا حساب کر دے ... !! "
بھری جیب نے 'دنیا' کی پہچان کروائی اور خالی جیب نے 'اپنوں' کی۔
ہنسنے کی خواہش نہ ہو ...
تو بھی ہنسنا پڑتا ہے ...
کوئی جب پوچھے کیسے ہو ... ؟؟
تو "مزے میں ہوں" کہنا پڑتا ہے ...
یہ زندگی کا تھیٹر ہے دوستو ! ....
یہاں ہر ایک کو ڈرامہ کرنا پڑتا ہے
"ماچس کی ضرورت یہاں نہیں پڑتی ...
یہاں آدمی آدمی سے جلتا ہے ... !! "
..```
06/09/2024
کیا لگے آنکھ ، کہ پِھر دل میں سمایا کوئی
رات بھر پِھرتا ہے اِس شہر میں سایا کوئی
فِکر یہ تھی کہ شب ہجر کٹے گی کیوں کر
لُطف یہ ہے کہ ہمَیں یاد نہ آیا کوئی
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چُپ چاپ
رنج یہ ہے کہ، تماشہ نہ دِکھایا کوئی
شہْر میں ہمدمِ دیرِینہ بُہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مِرے کام نہ آیا کوئی
ناصرکاظمی
تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملی
ان بستیوں میں ھم کو رفاقت نہیں ملی
رھنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر
ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی
اب تک ھیں اس گماں میں کہ ھم بھی ھیں دھر میں
اس وھم سے نجات کی صورت نہیں ملی
کہنا تھا جس کو اس سے کسی وقت میں مجھے
اس بات کے کلام کی مہلت نہیں ملی
کچھ دن کے بعد اس سے جدا ھو گئے منیرؔ
اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی
کچھ سالوں بعد پھر اس نے منگنی بھی توڑ دی فراز. . . . . . میں پنڈ میں تھا وہ پنڈی چلی گئی
یہ نارِ محبت کہیں تجھ کو نہ جلا دے
یادوں کی دبی راکھ کو ہرگز نہ ہوا دے
لازم نہیں ہر بار تجھے ہم ہوں میسر۔۔؛؛
ممکن ہے تُو اس بار ہمیں سچ میں گنوا دے
کب تک تری یادوں کی اذیت کو سہوں میں
اس کرب سے مجھ کو کوئی آزاد کرا دے۔۔؛؛
جینے نہیں دیتا ؛ یہی احساس شب و روز.....؛؛
برسوں کی رفاقت کوٸی لمحوں میں بھلا دے
یہ سوچ کہ دل تجھ کو نہیں بھولا ابھی تک۔؛؛
شاید کہ کسی موڑ پہ تُو ہم کو صدا دے
وہ شخص بھلا کیسے سکوں پائے کہ جس کی
صدیوں کی ریاضت کوٸی مٹی میں ملا دے۔؛؛
اس دور میں ممکن نہیں حق بات بھی کہنا
مجرم ہوں اگر میں ؛ مجھے سُولی پہ چڑھا دے۔۔؛؛
دنیا ترے اخلاص کو سمجھے گی نہ عاصی
بہتر ہے کہ جذبوں کو تہہِ خاک سُلا دے۔۔؛؛
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
حکیم مومن خان مومن
یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے
خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے
ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہَوا چلی
طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے
پھر اِس طرح ہُوا مجھے مقتل میں چھوڑ کر
سب چارہ ساز جانبِ دربار آ گئے
اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازؤں میں ہے
اب کے مقابلے پہ میرے یار آ گئے
آواز دے کے چُھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے
سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز
وہ بھی تو زیرِ سایۂ دیوار آ گئے
احمد فراز ،
31/07/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Doha