Waqar Reaction

Waqar Reaction

Share

Viral Social Media

25/07/2026

میرے بابا جنازہ ہو، شادی ہو یا ہسپتال... وہ ہمیشہ مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے پہنچ جاتے۔ لیکن جب اس عجیب حرکت کا راز کھلا، تو میری روح تک کانپ گئی!

ہماری پوری زندگی اسی الجھن میں گزری کہ اگر تقریب 5 بجے ہے تو ابو 4:30 بجے وہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہوتے ہیں؟ پچھلے مہینے گاڑی میں سفر کے دوران مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے جھنجھلا کر پوچھ ہی لیا: "ابو! آخر آپ ہر جگہ اتنی جلدی جا کر کرتے کیا ہیں؟"

وہ کچھ دیر کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے، پھر ایک گہرا سانس لے کر ایک ایسا سچ بولا جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی!

انہوں نے کہا: "بیٹا! اصل ضرورت تقریب، جنازے یا آپریشن کے بعد نہیں ہوتی۔ کسی مشکل امتحان، کچہری یا آپریشن تھیٹر میں جانے سے ٹھیک 'آدھا گھنٹہ' پہلے... انسان خ۔و۔ف کے عذاب میں ہوتا ہے اور اس دنیا میں سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے!"

پھر ابو نے ایک دل ہلا دینے والا انکشاف کیا: "چالیس سال پہلے میں ایک ہسپتال میں وقت سے پہلے پہنچا۔ وہاں آپریشن تھیٹر کے باہر ایک شخص تنہا بیٹھا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا، وہ ناامیدی میں اپنی جان لینے (خ۔و۔د۔ک۔ش۔ی) کا ارادہ کر چکا تھا۔ میں جا کر چپ چاپ اس کے پاس بیٹھ گیا، اسے دلاسہ دیا اور باتیں کرنے لگا۔ میرے اس 'آدھے گھنٹے' نے اس کی جان بچا لی... تب میں نے قسم کھائی کہ میں ہر جگہ پہلے پہنچوں گا، کیا پتا کب کسی ٹوٹتے ہوئے انسان کو میرے کاندھے کی ضرورت ہو!"

یہ سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے ابو کی پوری زندگی گھوم گئی۔ وہ تقریبات میں بور نہیں ہوتے تھے، وہ اکیلے اور خ۔و۔فزدہ لوگوں کا سہارا بنتے تھے!

میں نے اسی وقت سڑک کنارے گاڑی روکی، اپنی انا کو مارا اور اپنی اس بہن کو فون ملایا جس سے 2 سال سے بات بند تھی۔ جیسے ہی فون اٹھا، دوسری طرف سے سسکیوں کی آواز آئی: "میں تمہارے فون کا ہی انتظار کر رہی تھی..." میں وہیں رو پڑا۔

آج مجھے سمجھ آ گیا ہے کہ دنیا میں سب سے قیمتی انسان وہ نہیں جو وقت پر پہنچتا ہے، بلکہ وہ ہے جو کسی کے ٹوٹنے سے "آدھا گھنٹہ" پہلے پہنچ کر اسے بکھرنے سے بچا لیتا ہے! 💔

25/07/2026

🤭🤭🤭

25/07/2026

🤭

24/07/2026

"ابو! میری ٹانگوں سے روح نکل رہی ہے، میں م۔ر رہی ہوں مجھے بچا لیں..." ہسپتال کے ٹھنڈے کوریڈور میں گونجنے والی بیٹی کی اس آخری چیخ نے ایک باپ کی ہنستی کھیلتی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی!

یہ دلخراش کہانی مشہور پاکستانی اداکار محسن گیلانی کی ہے، جن کی جواں سال بیٹی سیدہ فاطمہ نے ان سے وعدہ لیا تھا کہ "ابو! جیسے آپ نے مجھے پیار دیا، ویسے ہی میری بیٹی کو بھی اس دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے آپ اپنی گود میں اٹھائیں گے۔"

بیٹی کا یہ مان رکھنے کے لیے محسن گیلانی ڈرامے کی شوٹنگ چھوڑ کر فوراً اسلام آباد پہنچے۔ ننھی پری کی پیدائش تو ہو گئی، لیکن خوشی کا وہ لمحہ اچانک خوف کی تاریک کھائی میں گر گیا۔ فاطمہ کی ب۔ل۔ی۔ڈ۔ن۔گ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اس نے تڑپتے ہوئے اپنے باپ کا ہاتھ مضبوطی سے جکڑ لیا اور آخری سانسیں گننے لگی۔

ڈاکٹرز اسے اسٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی کی طرف بھاگے۔ محسن گیلانی بے بسی سے اسٹریچر کے پیچھے بھاگ رہے تھے، ہسپتال کا وہ چھوٹا سا راستہ ایک باپ کے لیے صدیوں پر محیط قیامت بن چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹرز نے سر جھکا کر وہ الفاظ کہے جس نے وقت کو ساکت کر دیا: "آپ کی بیٹی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔"

صدمے سے نڈھال باپ کا دماغ سن ہو چکا تھا، کہ تبھی ایک نرس نے روتے ہوئے آکر کہا، "آپ بیٹی کے غم میں اپنی نواسی کو بھول گئے؟" محسن گیلانی کو بیٹی کا آخری وعدہ یاد آیا، انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے اس ننھی جان کو سینے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔

پھر شروع ہوا اسلام آباد سے ملتان کا وہ 10 گھنٹے طویل، اذیت ناک سفر... ایک طرف گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ٹوٹا ہوا باپ جس کے ساتھ ننھی نواسی تھی، اور ٹھیک اس کے پیچھے چلتی ایمبولینس... جس میں اس کی جوان بیٹی کی میت رکھی تھی۔

آج بھی جب محسن گیلانی کسی ایمبولینس کا سائرن سنتے ہیں، تو ان کے دل کی دھڑکن رکنے لگتی ہے، کیونکہ وہ سائرن ان کے لیے محض ایک آواز نہیں، ان کی زندگی کے سب سے دردناک دن کی وہ چیخ ہے جو ان کا زخم کبھی بھرنے نہیں دیتی! 💔

24/07/2026
24/07/2026

😔

23/07/2026

آپ کس سال پیدا ہوئے ؟
ریسرچ کے مطابق 90کی دہائی(1992سے 1999) کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کا بچپن بہت ہی حیرت انگیز ہے کیونکہ اس میں ڈائل اپ انٹرنیٹ ، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر،سی ڈیز،لینڈ لائن فون سے تیز ترین انٹرنیٹ،لیپ ٹاپس اور جدید سمارٹ فونز کا دور دیکھا ہے اور مزید دیکھ رہے ہیں ،

23/07/2026

🤭🤭

23/07/2026

اس اس پوسٹ کو جتنا ہو سکے شیئر کریں اور لائس پوسٹ پہ جو لکھا ہوا ہے جو قران مجید کی اس کو پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین

23/07/2026

ڈی آئی جی کے پروقار دفتر میں موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی... اچانک وردی میں ملبوس ایک سب انسپکٹر پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا آگے بڑھا اور ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا!

یہ وہ افسر تھا جس کے نام سے کل تک سائلین کانپتے تھے، لیکن آج اس کا اپنا غرور خاک میں مل چکا تھا۔ دراصل یہ شخص ہر ماہ 1 لاکھ 40 ہزار کی ر۔ش۔و۔ت کا نیٹ ورک چلاتا تھا (40 ہزار اپنی جیب میں اور باقی اوپر کے مالکان تک)۔ جب ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آئے تو اسے نوکری سے نکال باہر کیا گیا۔

آج وہ روتے ہوئے ترلے کر رہا تھا: "صاحب! میرے والد فوت ہو گئے ہیں، گھر میں کمانے والا کوئی نہیں، فاقے آ گئے ہیں... مجھے ایک آخری موقع دے دیں!"

لیکن سامنے کرسی پر بیٹھے لاہور پولیس کے دبنگ DIG فیصل کامران کی آنکھوں میں رتی برابر رحم نہیں تھا۔ انہوں نے دو ٹوک انکار کر دیا۔

تبھی ایک کانسٹیبل پیش ہوا جسے 10 ہزار کی ر۔ش۔و۔ت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا اور وہ 5 ماہ سے معطل تھا۔ ڈی آئی جی نے اس کی فائل میز پر پٹختے ہوئے کہا "اگر میں نے تجھے آج بحال کر دیا، تو وردی پہنتے ہی تیرا پہلا کام ان 5 مہینوں کی بند تنخواہ کا 'ح۔ر۔ا۔م' غریبوں کی جیب سے نوچ کر نکالنا ہوگا!"

اس سے پہلے کہ وہ کانسٹیبل کچھ بولتا، DIG فیصل کامران نے گرجدار آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنایا: "میں اس محکمے کو صاف کر رہا ہوں اور تم محکمے کا گند ہو۔ نکل جاؤ یہاں سے! نہ تمہیں خود بحال کروں گا، اور نہ کسی اور کو کرنے دوں گا!"

سلام ہے فیصل کامران جیسے نڈر اور بے باک افسروں کو، جو محکمے کی کالی بھیڑوں کو عبرت کا نشان بنا رہے ہیں۔ اگر آپ کا دل بھی یہ فیصلہ سن کر خوش ہوا ہے تو پوسٹ کو لائک اور شیئر ضرور کریں!

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Potchefstroom?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Potchefstroom