Waqar Reaction

Waqar Reaction

Share

Viral Social Media

16/09/2026
16/09/2026

"جوان بیٹے کے ج-نازے پر والد کا تاریخی اور دل دہلا دینے والا اقدام..." فتح پور میں جوان سال طالبعلم کی ناگہانی م-وت کے بعد والد کے اس خطاب نے پوری قوم کی آنکھیں نم کر دیں! 💔🥺

فتح پور میں کچھ روز قبل ایک انتہائی دردناک ح-ادثہ پیش آیا، جہاں چوہدری ندیم گجر کا جوان سال بیٹا (جو ایف اے کا طالبعلم تھا) اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس اچانک صدمے پر پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا اور ج-نازہ گاہ میں لوگوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔

اس انتہائی غمزدہ ماحول میں جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی، وہاں مرحوم کے والد نے ہمت، حوصلے اور بہترین تربیت کی ایسی اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

غم سے نڈھال والد نے ج-نازے میں موجود تمام لوگوں کے سامنے مائیک سنبھالا ...اور ہاتھ جوڑ کر سب سے معافی مانگنا شروع کر دی!

والد نے کہا: "مجھے اپنے والدین کی دی ہوئی تربیت پر فخر ہے، لیکن اللہ کی رضا پر میں راضی ہوں۔ اگر میرے اس بیٹے نے کبھی آپ میں سے کسی کا دل دکھایا ہو، سخت زبان استعمال کی ہو یا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہو، تو میں اس کا باپ آپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا: "اگر میرے بچے کے ذمے کسی کی کوئی رقم بھی واجب الادا ہو تو ج-نازے کے فوری بعد مجھ سے لے لیں، لیکن خدارا میرے بیٹے کو معاف کر دیں تاکہ وہ ق-بر کے ع-ذاب سے بچ سکے!"

ایک باپ کا اپنے جوان بیٹے کی م-یت پر یہ صبر اور اخرت کی فکر دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔

دعا ہے کہ اللہ کریم چوہدری ندیم گجر اور ان کے اہل خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور مرحوم نوجوان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، آمین! 🤲

16/09/2026

"اللہ تجھے ترقی دے اور تھانیدار بنا دے..." 13 سال بعد مقدمہ جیتنے پر بزرگ نے جج صاحب کو ایسی دعا کیوں دی؟ ⚖️😂

13 سال طویل قانونی جنگ جیتنے کے بعد جب جج صاحب نے بزرگ کو مبارکباد دی اور مسکرا کر دیکھا، تو بزرگ نے جج کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: "اللہ تجھے ترقی دے اور ایک دن تھانیدار بنا دے!"

جج صاحب مسکرا دیے اور پیار سے بولے: "بابا جی! جج کا عہدہ تو تھانیدار سے بہت بڑا ہوتا ہے، آپ مجھے تھانیدار بننے کی دعا کیوں دے رہے ہیں؟"

بزرگ بولے: نہیں بیٹا! تھانیدار ہی بڑا ہوتا ہے
جج نے حیرت سے پوچھا: "وہ کیسے بابا جی؟"

بزرگ بولے: "آپ کو اس کیس کو ختم کرنے میں 13 سال لگ گئے، جبکہ تھانیدار تو پہلے دن سے ہی بول رہا تھا کہ پانچ ہزار روپے دو اور میں معاملہ ادھر ہی رفع دفع کر دیتا ہوں!" 😆😆

15/09/2026

"ا-غوا کاروں کے چنگل میں 15 سالہ لڑکی کی حاضر دماغی..." موبائل فون کے ایک کلک نے سینکڑوں کلومیٹر دور بچی کی جان کیسے بچائی؟ 🚨📱

10 ستمبر کو چارسدہ سے ایک 15 سالہ لڑکی کو اس کے اپنے ہی ماموں زاد بھائی نے رشتے سے انکار پر ا-سلحے کے زور پر ا-غوا کر لیا۔ بوڑھی ماں اور گھر والوں کے سامنے اسے زبردستی گاڑی میں ڈالا گیا اور نامعلوم مقام پر غائب کر دیا گیا۔

پ-ولیس کی ٹیمیں پاگلوں کی طرح بچی کو پشاور، مردان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تلاش کر رہی تھیں لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ پھر اچانک 11 ستمبر کی شام ایک ایسا معجزہ ہوا جس نے پوری تفتیش کا رخ موڑ دیا۔

⚠️ بچی کی لرزہ خیز حاضر دماغی:
ا-غوا کاروں کے درمیان بیٹھی اس بچی نے موت کے سائے میں کسی طرح چھپ کر اپنا موبائل فون آن کر لیا! جیسے ہی فون آن ہوا، پ-ولیس کی ٹیکنیکل ٹیم کو کوہاٹ کے علاقے سے ایک سگنل ملا اور پتا چلا کہ بچی کو ہنگو کی طرف لے جایا گیا ہے۔

پ-ولیس کی ٹیمیں فوراً لوکیشن ٹریس کر کے ہنگو کی طرف دوڑیں، لیکن.....جیسے ہی پ-ولیس ہنگو کے اس دور افتادہ علاقے میں پہنچی، بچی کے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی اور لوکیشن غائب ہو گئی!

یہ علاقہ ویسے ہی ش-رپسندوں کا گڑھ مانا جاتا تھا اس لیے اندھیرے میں آپریشن ناممکن تھا۔ لیکن پ-ولیس نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے لوکل انٹیلیجنس کا سہارا لیا، رات بھر سراغ لگایا اور بالآخر صبح سویرے لیڈیز پ-ولیس کے ہمراہ ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مار دیا۔

خوش قسمتی سے بچی کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا اور ایک خاتون سمیت 3 م-لزمان موقع پر ہی گ-رفتار ہو گئے۔ ایک بیٹی کی اس حاضر دماغی اور چارسدہ پ-ولیس کی تیز ترین کارروائی نے ایک خاندان کی عزت اور بیٹی کو بچا لیا۔
Disclaimer:
This image/video has been sourced from publicly available social media platforms. We have not independently verified its authenticity or accuracy. The purpose of sharing it is to inform the public. Viewers are encouraged to verify the information from official and reliable sources before forming any conclusions or sharing it further.
اردو:
نوٹ: یہ تصویر/ویڈیو سوشل میڈیا پر عوامی طور پر دستیاب ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔ ہم اس کی صداقت یا درستگی کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتے۔ اسے صرف عوام تک معلومات پہنچانے کے مقصد سے شیئر کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے یا آگے شیئر کرنے سے پہلے براہِ کرم مستند اور سرکاری ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

15/09/2026

"جہلم کے مسلم قبرستان میں ایک ہندو شخص کی قبر..." آخر 100 سال گزرنے کے بعد بھی م-سلمان اسے دعاؤں میں کیوں یاد کرتے ہیں؟ 🥀✨

یہ واقعہ 1933ء کا بتایا جاتا ہے جب دکن کے 'ٹنڈل رام پرشاد' جہلم میں پونے دو مربع زمین کے مالک تھے۔ مال و دولت کی کوئی کمی نہ تھی، مگر دل میں انسانیت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

ایک دن ان کی نظر چند لوگوں پر پڑی جو ایک بوڑھی عورت کا ج-نازہ اٹھائے جا رہے تھے، لیکن کچھ ہی دیر بعد وہی لوگ روتے ہوئے ج-نازہ واپس لے کر آ رہے تھے۔ رام پرشاد نے حیرت سے پوچھا: "کیا ہوا؟ ج-نازہ واپس کیوں لے آئے؟"

ان لوگوں نے روتے ہوئے بتایا: "یہ ہماری والدہ ہیں... مگر ہمیں اپنی زمین میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب ہم انہیں کہاں لے جائیں؟"

⚠️ ایک فیصلہ جس نے تاریخ بدل دی:
یہ سن کر رام پرشاد کا دل بھر آیا۔ انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا: "زمین اور جائیداد یہیں رہ جانی ہے، اگر کہیں جگہ نہیں مل رہی تو میری زمین میں دفن کر دو! اور آج سے میری یہ پونے دو مربع زمین م-سلمانوں کے ق-برستان کے لیے وق-ف ہے!"

اسی زمین میں اس بوڑھی خاتون کو دفن کیا گیا اور لوگوں نے رام پرشاد کے لیے دل سے دعائیں کیں۔ کہتے ہیں کہ انہی دعاؤں نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے ایک بزرگ کے ہاتھ پر ا-سلام قبول کر لیا... ...البتہ انہوں نے اپنا نام تبدیل نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی اور ا-سلام قبول کرنے کے بعد بھی 'ٹنڈل رام پرشاد' ہی کہلاتے رہے۔

بعد ازاں وہ دکن واپس چلے گئے اور اپنے وکیل کو وصیت کی: "جب میری م-وت ہو تو مجھے جہلم کے اسی ق-برستان میں دفن کرنا جہاں میں نے اپنی زمین وق-ف کی تھی۔"

پھر 1942ء میں قیامِ پاکستان سے 5 سال پہلے جب ان کا انتقال ہوا، تو ان کی میت دکن سے خصوصی گاڑی میں جہلم لائی گئی۔ ہزاروں م-سلمانوں نے ان کے ج-نازے میں شرکت کی اور انہیں اسی ق-برستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

آج بھی اس ق-برستان میں نہ جانے کتنے خاندانوں کے پیارے آسودۂ خاک ہیں۔ انسان کا مال ختم ہو جاتا ہے، محل مٹی میں مل جاتے ہیں... مگر انسانیت کے لیے کیا گیا ایک نیک کام نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی نیکی کرنے کی توفیق دے جس کا فائدہ ہماری زندگی کے بعد بھی لوگوں تک پہنچتا رہے۔ آمین! 🤲

14/09/2026

"انڈا پراٹھے کے اوپر کیوں لگایا؟" گوجرانوالہ میں اِن ڈرائیو بائیک والے کو ایک ایسی انوکھی خاتون مل گئی کہ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا! 🚲🤦‍♂️

اِن ڈرائیو پر صرف رائیڈز نہیں ملتیں، کبھی کبھی پوری ایک فلم چل جاتی ہے! گوجرانوالہ میں جناح اسٹیڈیم کے پاس سے ایک بائیک رائڈر کو 40-45 سالہ خاتون کی بکنگ ملی۔ دیکھنے میں تو وہ بالکل نارمل اور استادوں جیسے انداز والی تھیں، لیکن بیٹھتے ہی انہوں نے سامان کے شاپر بائیکر کے ہاتھ میں تھما دیے کہ "یہ لٹکا لو!"

جیسے تیسے سامان لٹکا کر وہ انہیں ان کے گھر لے گیا، جہاں ایک شاپر اندر رکھنا تھا۔ لیکن ابھی بائیکر باہر ہی کھڑا تھا کہ اندر سے چیخنے چلانے کی زبردست آوازیں آنے لگیں!

⚠️ گھر کا جھگڑا اور سامان کا طوفان:
شوہر غصے سے چلا رہا تھا: "تم نے چکن کیوں پکایا؟ ابھی کل دو ہزار کی ہانڈی بنائی ہے، باہر پھینکو اسے!" اندر تکرار چلتی رہی اور بائیکر باہر سوچتا رہا کہ کہاں پھنس گیا۔ کچھ دیر بعد خاتون باہر آئیں تو ساتھ مزید شاپر اور ایک بڑی بالٹی لاد لائیں!

اب موٹر سائیکل پر 5 شاپر، ایک بالٹی اور کارٹن لادے جا چکے تھے، جو کہ کسی رکشے کی سواری لگ رہی تھی۔ خیر، سفر شروع ہوا تو راستے میں خاتون نے کوئٹہ کیفے سے انڈا پراٹھا لیا۔ لیکن تھوڑا اگے جا کر اچانک بولی: "واپس چلو! پراٹھا واپس کرنا ہے!"

دکان پر جا کر خاتون نے الگ ہی بحث چھیڑ دی: "میں نے انڈا پراٹھا کہا تھا، تم نے پراٹھے کے اوپر انڈا کیوں لگا دیا؟ یہ مجھے جھوٹا پراٹھا دیا ہے، واپس کرو!" بیچارہ دکاندار سمجھاتا رہا، لیکن خاتون پیسے واپس لے کر ہی مانیں۔

ابھی سفر جاری تھا کہ راستے میں ایک کتا آ گیا۔ خاتون فوراً چیخیں: "اس کتے سے بچا کر جاؤ، کہیں میرا پاؤں نہ لگ جائے میں ناپاک ہو جاؤں گی! اور یہ بتاؤ تمہاری بائیک صاف ہے نہ؟ میرا سامان تو گندا نہیں ہو رہا؟"

بائیک رائڈر خاموشی سے ہنسے بغیر نہ رہ سکا اور آخر کار انہیں ان کی منزل شیخوپورہ موڑ پر اتار کر ہی سکھ کا سانس لیا!

14/09/2026

"میرے پاس تو پاکستان کا شناختی کارڈ تک نہیں..." لبنان میں آرام سے کافی پیتے ہوئے ایک امریکی شہری کو جب اچانک فون پر بتایا گیا کہ آپ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے ہیں! 😳🇵🇰

یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ ہماری سیاست کا ایک ایسا حیران کن اور تلخ سچ ہے جسے سن کر آج بھی لوگوں کا دماغ چکرا جاتا ہے۔ 1993 کا سال تھا اور پاکستانی سیاست میں شدید بحران آیا ہوا تھا۔

ایسے میں ایک فون کال لبنان کے ایک ریسٹورنٹ میں جاتی ہے، جہاں ایک صاحب بڑے اطمینان سے کافی نوش فرما رہے ہوتے ہیں۔ یہ صاحب ایک امریکی نیشنل تھے جن کا نام 'معین قریشی' تھا۔

⚠️ حیران کن فون کال اور کلائمیکس:
فون پر معین قریشی صاحب کو بتایا جاتا ہے کہ "تیاری پکڑیں، آپ کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم بنا دیا گیا ہے!"

یہ سن کر معین قریشی حیرت سے جواب دیتے ہیں، "لیکن بھائی، میرے پاس تو پاکستان کا شناختی کارڈ (ID Card) تک نہیں ہے، میں کیسے وزیراعظم بن سکتا ہوں؟" یہ سن کر فون پر انہیں تسلی دی گئی کہ آپ بس پاکستان پہنچیں

پھر جب معین قریشی صاحب پہلی فلائٹ لے کر اسلام آباد ائیرپورٹ پر اترے، تو ان کا پروٹوکول کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ اور اسی وقت ائیرپورٹ پر ہی ان کے ہاتھ میں ایک نیا، گرما گرم شناختی کارڈ تھما دیا گیا!

لیکن سب سے بڑی حیرت کی بات یہ تھی کہ اس شناختی کارڈ پر ان کے گھر کا جو ایڈریس (پتہ) لکھا ہوا تھا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ سیدھا 'پرائم منسٹر ہاؤس، اسلام آباد' کا تھا!
Disclaimer:
This image/video has been sourced from publicly available social media platforms. We have not independently verified its authenticity or accuracy. The purpose of sharing it is to inform the public. Viewers are encouraged to verify the information from official and reliable sources before forming any conclusions or sharing it further.
اردو:
نوٹ: یہ تصویر/ویڈیو سوشل میڈیا پر عوامی طور پر دستیاب ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔ ہم اس کی صداقت یا درستگی کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتے۔ اسے صرف عوام تک معلومات پہنچانے کے مقصد سے شیئر کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے یا آگے شیئر کرنے سے پہلے براہِ کرم مستند اور سرکاری ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Potchefstroom?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Potchefstroom